سوداے خام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اہنونی کی ہوس، خیالِ خام، بے کار بات۔ "وہ محبت تھوڑا ہی تھی۔ وہ تو سوداے خام تھا بلکہ خیالِ خام تھا۔"      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ١٩٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکبِ توصیفی ہے۔ فارسی اسم 'سودا' بطور موصوف کے ساتھ 'ے' بطور حرفِ اضافت مبدل بہ کسرہ صفت بڑھا کر فارسی ہی سے اسم صفت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اہنونی کی ہوس، خیالِ خام، بے کار بات۔ "وہ محبت تھوڑا ہی تھی۔ وہ تو سوداے خام تھا بلکہ خیالِ خام تھا۔"      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ١٩٠ )

جنس: مذکر